یوم یکجہتی کشمیر پر انڈین ایمبیسی ڈنمارک کے باہر زبردست مظاہرہ

10365485_10152932397176839_8640116110994065836_o (1)

عدیل احمد آسی

یوم یکجہتی کشمیر پر انڈین ایمبیسی ڈنمارک کے باہر زبردست مظاہرہ

تحریک کشمیر ڈنمارک کے زیر اہتمام 5 فروری 2016 یوم یکجہتی کشمیر پر انڈین ایمبیسی ڈنمارک کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کی کال دی گئی۔اس مظاہرہ میں ڈنمارک میں بسنے والی تمام سیاسی،سماجی،ثقافتی اور مذہبی جماعتوں نے شرکت کی۔سردی اور بارش کا موسم بھی مظاہرین کا عزم متزلزل نہ کر سکا اس مظاہرہ میں ورکنگ ڈے کے باوجود بچوں،بوڑھوں،نوجوانوں اور خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی مظاہرین نے کشمیر کی آزادی کے لئے فلک شگاف نعرے لگائے۔انڈین حکام چپکے چپکے شرکاء و مقررین کی تصاویر بناتے رہے مظاہرے کے دوران انڈین جھنڈا شرم سے جھکا رہا مظاہرے کا باقاعدہ آغاز ڈنمارک اور عالم اسلام کے مشہور قاری علامہ اسماعیل فرید تونسوی کی خوبصورت آواز میں تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔اس کے بعد تحریک کشمیر ڈنمارک کے صدر عدیل احمد آسی نے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں اپنا حصہ ڈالنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور یوم یکجہتی کشمیر کے پس منظر اور اہمیت پر روشنی ڈالی ریڈیو پاک لنک کے ہوسٹ شیخ ظفر نے انڈین ظلم کو اجاگر کرنے کے لئے ترانہ کشمیر پیش کیا۔کشمیر سوسائٹی ڈنمارک کے راہنما راجہ انور نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر اب تنہا نہیں ہم اس کے ساتھ ہیں۔پاکستان کمیونٹی کے صدر راجہ غفور افضل نے انڈین ایمبیسی کے حکام کو للکارتے ہوئے کہا تم ہمیں ڈرا،دھمکا کر جدوجہد حریت کو دبا نہیں سکتے۔پیپلز پارٹی ڈنمارک کے صدر جناب مجیب قریشی نے کہا آج ہم پرزور اپیل کرتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔فقہ جعفریہ کے نمائندہ راجہ طارق نے کہا ہمیں انڈین فلموں سمیت تمام بھارتی مصنوعات کا کشمیر کی آزادی تک مکمل بائیکاٹ کرنا چاہئے۔

ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر اوڈینسے سے پاکستان کلچرل اینڈ سٹڈی سرکل کے صدر شیخ ظہیر نے اپنے خطاب میں کشمیریوں سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔ڈنمارک کے بزرگ کشمیری راہنما اور ممتاز شاعر خواجہ آصف نے کشمیر پر لکھی اپنی نظم پیش کی۔ایس ہائے اسلامک سنٹر کے راہنما راجہ بابر نے اپنے پرجوش خطاب میں کشمیری بیٹیوں کی قسم کھا کر بھارتی سفارت خانے کو للکارا اور کہا اگر ہماری شرافت کی زبان سمجھ نہ آئی تو ہمیں دوسری زبان بھی آتی ہے۔سویڈن سے جماعت اسلامی کے ورکر مرزا حماد ایڈووکیٹ نے کہا کہ کشمیریوں کو آزادی سے کم کوئی حل قابل قبول نہیں۔پی ٹی آئی ڈنمارک کے صدر جناب چوہدری ایوب نے کہا کہ پاکستانی ریستورانوں کے ساتھ سے انڈین کا نام ہٹایا جائے انہوں نے مزید کہا کہ شرم کی بات ہے کہ ڈنمارک میں موجود تمام انڈین ہوٹلوں کے مالک پاکستانی ہیں۔ڈنمارک کے دوسرے بڑے شہر اور کوپن ہیگن سے 400 کلومیٹر پر واقع آر ہاؤس سے آئے ہوئے پاکستانی کمیونٹی آر ہاؤس کے صدر مرزا نوازصاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی آزادی کا سورج عنقریب طلوع ہو گا۔

کوپن ہیگن کی سابقہ خاتون سٹی کونسلر محترمہ لبنٰی الہٰی نے اپنی تقریر میں کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کے اعدادوشمار پیش کئے۔مسلم لیگ ن کے صدر راجہ شناعت نے مودی کو دہشت گرد قرار دیا اور اپنی حکومت سے مطالبہ کیا کی کشمیر کی آزادی تک انڈیا سے مذاکرت(کسی اور معاملے میں)نہ کئے جائیں۔پاک کشمیر سوشل فورم کے جنرل سیکرٹری وسیم عالم بٹ نے کہا کہ انشاء اللہ کشمیر پاکستان کا حصہ بن کر رہے گا۔

مقامی ڈینش پارلیمنٹ کے رکن عباس رضوی نے انگلش میں اپنے خطاب میں کہا بھارت کو فورََا کشمیر سے اپنی فوج کا انخلا کرنا چاہییے۔

پی ٹی آئی کشمیر ونگ ڈنمارک کے نوجوان صدر راجہ ریحان خان نے ڈینش زبان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم آخری دم تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ہم ان کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم ڈنمارک میں بھی ان کا درد محسوس کرتے ہیں۔مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شوکت علی نے کہا کہ ہم کشمیریوں پر ظلم و جبر روارکھنے پر دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت پر تھوکتے ہیں۔پاکستان سوسائٹی ڈنمارک کے  صدر اور کوپن ہیگن کے سابقہ سٹی کونسلر چوہدری ولائیت خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر میں اقوام متحدہ نے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا نہیں کیا ہے۔اس ادارے نے اپنا مقام کھو دیا ہے۔تنظیم اسلامی ڈنمارک کے صدر جناب امتیاز احمد سویہ نے قاضی حسین احمد مرحوم کو یوم یکجہتی کشمیر  پہلی دفعہ منانے اور اس کی اپیل دنیا بھر سے کرنے پر ان کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔آماگر اسلامک سنٹر کے امام علامہ تنویر حسین نے شرکاء کو احساس دلایا کہ کشمیریوں کے لئے کھڑے ہونا ہمارا دینی فریضہ ہے۔ڈنمارک کی مشہور سماجی،سیاسی شخصیت اور تحریک کشمیر ڈنمارک کے اہم راہنماء میاں منیر احمد نے کہا کہ کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور اب یہ مسئلہ انشاء اللہ گمنائیوں میں نہیں رہے گا۔میاں منیر احمد نے کشمیریوں کے حق میں خوب نعرے لگوائے۔ڈینش پاکستان افیئر کونسل کے صدر اور تحریک کشمیر ڈنمارک کے اہم راہنما ء جناب انصرحسین نے شرکاء کے سامنے کشمیریوں کے لئے حق خود ارادیت کی قرارداد پیش کی  اس قرارداد کے حق میں تمام شرکاء نے ہاتھ کھڑے کئے اور بھرپور حمایت کی۔

آخر میں ڈنمارک کی سب سے معزز شخصیت اور نامور عالم دین قاری و خطیب  اور سب سے بڑے پاکستان اسلامک سنٹر ”مسلم کلچرل سنٹر“ ویسٹربرو کے امام علامہ ظہیر بٹ صاحب نے تحریک کشمیر کی کاوشوں کو سراہا اور کشمیر کی جلد آزادی کے لئے دعا کروائی۔

مظاہرے کے اختتام پر جناب عدیل احمد آسی نے شرکاء کا دوبارہ شکریہ ادا کیا اور تحریک کشمیر کے راہنماء میاں منیر احمد،انصرحسین اور عدیل احمد آسی نے بھارتی سفارت خانے میں قرارداد پیش کی جسے بھارتی سفارت خانے کے پوسٹ بکس میں ڈال دیا گیا۔

Advertisements

یوم یکجہتی کشمیر پس منظر اور اہمیت


یوم یکجہتی کشمیر پس منظر اور اہمیت

عدیل احمد آسی

 تحریک کشمیر ڈنمارک

یوم یکجہتی کشمیر کیا ہے اس کی اہمیت کیا ہے ، ہم یہ دن کیوں منا رہے ہیں اس کو جاننے اور سمجھنے سے کے لیے تحریک آزادی کشمیر کے پس منظر کو سمجھنا ہو گا۔ کشمیروں پر ظلم کی یہ داستان معاہدہ امر تسر سے ہی شروع ہو جاتی ہے اس بدنام زمانہ ”معاہدہ امرتسر“ کے تحت16 مارچ 1846ء کو انگریزوں نے کشمیر کو 75لاکھ روپے نانک شاہی کے عوض گلاب سنگھ کو بیچ دیا۔ اور پھر ڈوگرہ راج میں مسلمانان کشمیر کے ساتھ جو ناروا سلوک روا رکھا گیا اس کی ایک جھلک قدرت اللہ شہاب مرحوم نےاپنی شہرآفاق کتاب شہاب نامہ میں درج کی ہے۔ جولائی 1931ء کو سری نگر جیل کے احاطے میں کشمیریوں پر وحشیانہ فائرنگ میں 22 مسلمان  کو شہید اور متعدد  کوشدید زخمی کردیا گیا۔ اسی واقع نے تحریک آزادی کشمیر کو جنم دیا اور لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ نے شاعر مشرق  حضرت علامہ اقبال کی سربراہی میں ایک ”کشمیر کمیٹی“ قائم کی ۔ نومبر 1931ء میں ”تحریک الاحرار“ نے سول نافرمانی کے ذریعے جموں کشمیر کو آزاد کرانے کا مطالبہ کیا۔  1934ء میں پہلی مرتبہ ہندوستان میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ڈوگرہ راج کے مظالم کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی گئی۔ 1946ء میں قائد اعظم نے مسلم کانفرنس کی دعوت پر سرینگر کا دورہ کیا جہاں قائد  نےکشمیر کو پاکستان کی”شہ رگ“ قرار دیا۔  جولائی1947ء میں سری نگر میں باقاعدہ طورپر ”قرار داد الحاق پاکستان “منظور کی۔ لیکن ہندوستان نے کشمیریوں کے اس فیصلے کو نظر انداز کر دیا۔ ہندوستان نے  کشمیر سےمسلم تشخص کو ختم کرنے کیلئے تقسیم ہند کے وقت ساڑھے تین لاکھ کشمیریوں کو جموں میں شہید کیا ۔ 23 اگست 1947  کو کشمیروں نے مسلح جدوجہد کا باقاعدہ آغاز کیا اور اس جہاد کے نتیجے میں موجودہ آزاد کشمیر آزاد ہوا۔ اس صورت حال سے گھبرا کہ پنڈت جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ پہنچ گئے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیروں کے لیے حق خود ارادیت کی متعدد قراردیں منظور کیں جن کے مطابق ریاست میں رائے شماری کے ذریعے ریاست کے مستقبل کا فیصلہ مقامی عوام اپنی خواہشات کے مطابق کریں گے۔ لیکن ہندوستان آج تک ان قرارداوں پر عملدرآمد کی بجائے نہتے کشمیروں پر 8 لاکھ ا فواج کے ذریعے  غاصابانہ قبضہ کر کہ ظلم وستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنوری1989ء سے 31 دسمبر2010ء تک غاصب ہندوستانی افواج نے 93,544 کشمیری مردوزن کو شہید کردیا جن میں 6,892 کو زیر حراست قتل کیا گیا۔ 22,749 خواتین بیوہ اور 107,400 بچے یتیم ہوئے۔ گزشتہ دوعشروں میں ہندوستانی افواج کے ہاتھون کشمیری خواتین کی عصمت دری کے 9,987 واقعات ہوئے جب کہ 105,901 مکان اور گھروں کو ہندوستانی قابض افواج نے جلا کر خاکستر کیا۔ 1989ء میں جب کشمیروں نے بھارت کی مسلسل عیاریوں اور دھوکے بازیوں کے بعد تحریک آزادی کشمیر کو ایک بار پھرنئے جوش و جذبے اور سرفروشانہ انداز شروع کر دیا ۔ آزادی کے ان متوالوں نے 1947 ءمیں آزادی کی تحریک کے لیے بنائے گئے بیس کیمپ کا رخ کیا۔روزانہ سینکڑوں کی تعدادمیں نوجوان نام نہاد لائن آف کنٹرول کو روندتے ہوئے آزاد کشمیر میں پہنچنا شروع ہو ۔یہ وہ حالات تھے کہ جب جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے اس وقت کے امیر کرنل (ر )محمد رشید عباسی (مرحوم ) سیکرٹری جنرل محمد اعجاز افضل اور ان کے جواں عزم و ہمت ساتھیوں نے مقبوضہ کشمیر سے آنے والے ہزاروں نوجوانوں کی میزبانی کا فیصلہ کیا اور اس ساری صورتحال کے پس منظر اور پیش منظر سے جماعت اسلامی پاکستان کی قیادت کو نہ صرف مکمل طور پر آگاہ کیا بلکہ میزبانی کے سلسلے میں ان سے امداد کی درخواست بھی کی گئی ۔اس وقت کے امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے راہنماؤں کونہ صرف اپنے مکمل تعاون اور امداد کی یقین دہانی کروائی بلکہ ایک پریس کانفرنس کر کے اس ساری صورتحال سے قوم کو آگاہ کیا ۔انہوں نے حکمرانوں اور عوام سے کشمیریوں کی اس جدوجہد کی تائید و حمایت اور پشتیبانی کی اپیل بھی کی۔

یہ قاضی حسین احمد (رحمتہ اللہ علیہ )ہی تھے کہ جنہوں نے 5 فروری کو مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔ اورپھرا ن کی سربراہی اور قیادت میں ہی سب سے پہلے 5 فروری 1990 ءکویوم یکجہتی کشمیر منایا گیا تھا۔ قاضی حسین احمد کے مطابق تحریک آزادی کشمیراپنی نوعیت اور اہمیت کے اعتبار سے کشمیر کی آزادی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بقا و سالمیت اور تکمیل کی جنگ بھی ہے۔وہ مسئلہ کشمیر کو تقسیم برصغیرکے ایجنڈے کا حصہ قرار دیتے تھے

 –

اس وقت چونکہ پنجاب میں اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت تھی اور میاں نواز شریف وزیرِ اعلیٰ تھے لہٰذا انہوں نے قاضی صاحب کی اپیل سے اتفاق کرتے ہوئے 5فروری1990 کو پنجاب بھر میں سرکاری طور پر یومِ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کر دیا ۔ مرکز میں اس وقت محترمہ بینظیر بھٹو مرحومہ کی حکومت تھی لہٰذا انہوں نے بھی اس دن کو سرکاری طور پر یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان کیا ۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ان اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ پورے پاکستان میں تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے بیداری اور یکجہتی کی ایک ایسی فضا پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں ملک کا ہرفرد تحریک آزادی کشمیر کے جذبے سے پوری طرح سرشار ہو گیا اور اس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کے عوام تک یہ پیغام بھی پہنچا کہ وہ بھارت سے آزادی اور حق خودارادیت کی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری مسلمانوں نے ہندو بنیاءکی غلامی سے آزادی کے لیے تاریخ کی بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔ہمیں یقین ہے کہ شہدا کا خون رنگ لائے گا اور سرزمین کشمیر پر ایک دن ضرور آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔ بھارت بے گناہ کشمیری مردوں ٬عورتوں اور معصوم بچوں کا قاتل ہے۔دوسری طرف یہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ نام نہاد عالمی انسانی حقوق کے ادارے اور تنظیمیں کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے شدید ترین مظالم اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیوںپر بھی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔کشمیری آزادی کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں٬ مگر بھارت کی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کو دیکھئے کہ وہ پھر بھی کشمیر کے اٹوٹ انگ ہونے کی رٹ تواتر کے ساتھ لگاتا چلا جا رہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوجوں کے ہاتھوں ظلم و استبداد کا شکار کشمیری مسلمان کی مدد کرنا پاکستانی مسلمانوں پر واجب ہے۔ یہ بات جاننا ضروری ہے کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں آزادی اور حق خود ارادیت کی جو تحریک جاری ہے وہ ریاست جموں و کشمیر کی آزادی اور حق خودارادیت کی تحریک ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تکمیل اور بقا کی تحریک بھی ہے ۔ کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی بقا کی اس تحریک میں ایک لاکھ سے زیادہ شہداء کا مقدس لہو شامل ہےاس کے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں کشمیری مسلمان مرد ، عورتیں ، بچے اور بوڑھے زخمی اور اپاہج ہو چکے ہیں چنانچہ آج مقبوضہ کشمیر میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے جس کا کوئی نہ کوئی فرد شہید یا زخمی نہ ہوا ہو یا جس کی کسی ماں ، بہن یا بیٹی کی عصمت نہ لٹی ہو ۔ اسی طرح آج مقبوضہ کشمیر میں بستیوں کی بستیاں ویرانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کا کوئی شہر یا گاؤں ایسا نہیں ہوگا جہاں شہداء کے مزار نہ ہوں یوں وہ کشمیر جو جنت ارضی کہلاتا تھا، بھارت کی سرکاری دہشت گردی کی وجہ سے موت کی وادی میں تبدیل ہو چکا ہے اور کشمیری عوام نے یہ ساری قربانیاں اپنے حق ِ خودارادیت اور پاکستان کی تکمیل اور بقاء کیلئے دی ہیں تو پھر ہم پہ واجب ہے کہ ہم دنیا میں جہاں کہیں بھی ہیں ۵ فروری کو  کشمیروں کے ساتھ یکجہتی کے لیے نکلیں اور مظلموم کشمیروں کی آواز بنیں اور مقبوضہ کشمیر کی مظلوم عوام کوبتا دیں کہ وہ بھارت سے آزادی اور حق خودارادیت کی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں ۔ اور دنیا کو باور کروائیں کہ ہمیں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے علاوہ کشمیرکا کوئی حل قبول نہیں ۔  اور حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے اصولی موقف پر کوئی اندرونی یا بیرونی دباؤ قبول نہ کریں ۔  مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جرات مندانہ موقف اختیار کیا جائے  اور اس موقف کی تائید میں بھر پور سفارتی مہم چلائی جائے۔

Seerat Conference 2015

1009095_10152932385026839_8842386273839952570_o 1614050_10152932438666839_835372583834530347_o 1957659_10152932411221839_1899695805427608683_o 1974402_10152932388771839_4263871463557640951_o 10520821_10152932408291839_6774147421742626228_o 10668990_10152932415941839_329776046799136464_o 10900259_10152932439506839_3869529745963833492_o 10531269_10152932385281839_437356681272895853_o 1973788_10152932420616839_9060768331288148917_o 10365485_10152932397176839_8640116110994065836_o (1) 10842048_10152932417491839_5715320054981749103_o 10911275_10152932412641839_9191508512864117056_o 10911338_10152932426801839_868642861008631269_o 10922411_10152932441976839_3009345217876101849_o

Monthly Dars

Famous Danish Author and Muslim  scholar Mr. Amer Majid will deliver Dars-e-Quran

On coming Sunday 30 November 2014

Time 15:15

Vanue: (Masjid Wakf) Room # 1 first floor

Dortheavej 45 – 47 2400 København NV

Youth will also participate in program. Join us in this event with your friend and families member.

Tanzeem-e-Islami Denmark

dars-e-quran

The Wife of senior founder member and Ex- president of Tanzeem-e-Islami Denmark Mr. Khawaja Tariq Askari has passed away.

Innalillah –e-Wa inna elh-e rajoon

NAMAZ-E-JANAZA Her Namaz-e-Janza will be offered tomorrow at 13:00 at Vesterbro Masjid (Amerikavej 19 KBH V ).  May Allah rest her soul in peace

Tanzeem-e-Islami Denmark

 

 

Kashmir Black day in Denmark

muqararinhazrin

Kashmir Black day

news

Amir jaffery (GET) Iftar with Tanzeem

DSC_0652

Tanzeem’s Delegation meeting with Ambassador of Pakistan Masroor A janejo in Embassy of Pakistan, Copenhagen

DSC_0644

Welcome Ramadan

tanzeem dawatnama

Tanzeem Tarbiyat Gha

abcde

Digital Passport

برادر عدیل آسی ورکشاپ کرواتے ہوئے ۔۔۔ تنظیم اسلامی ڈنمارک لیکچر ڈے

New President

imtiaz sivia presedent

quid day 2013

auid day news

Dr Ikram Sarwar and Abbas Razvi In Tingbjerg School Today For Election Compain

Khalid hussain Bukhari in Denmark

tarkeen227762

یورپین مسلم کونسل کی چوتھی سالانہ کانفرنس

یورپین مسلم کونسل کی چوتھی سالانہ کانفرنس (رخسار انجم ؍برلن بیوروچیف) 

گزشتہ تین سالوں سے یو کے اسلامک مشن کی سرپرستی میں یورپ کی مسلم تنظیمیں اکٹھی ہوتی ہیں ۔۔اللہ کے دین کو اللہ کے بندوں میں پھیلانے کی کوشش کو تیز تر کرنے کا عہد کرتی ہیں ،کچھ ہدف پورا ہوتا ہے جسکی رپورٹ پیش کی جاتی ہے اور پھر نئے اہداف مقرر کئے جاتے ہیں جن کا لب لباب اپنی نئی نسل کو یورپ کی چکاچوند کر دینے والی روشنیوں سے بچا کر نور محمدی ؐ کی طرف متوجع کرنا ہوتا ہے ۔۔ گزشتہ سال برلن میں یہ کار خیر انجام دیا گیا تھا ۔۔اس سال یہ سعادت اسلامی تنظیم ڈنمارک کے حصے میں آئی ۔۔30 اگست کی شام تک پورے یورپ سے تنظیمیں اپنی رجسٹریشن کروا چکیں تھیں ۔۔ 31اگست بروز ہفتہ کوپن ہیگن کے کمیونیٹی ہال میں صبح دس بجے خوبصورت تقریب کا اہتمام ہوا جسمیں یورپ کی تنظیموں نے بھرپور شرکت کی ۔۔حاضرین بڑے تپاک سے مل رہے تھے جس اُمت متحدہ کا خواب کبھی علامہ اقبال نے دیکھا تھا اُس کی ابتداء تھی ۔۔یورپی مسلم یونین کے اس اجلاس میں یو کے، جرمنی، اٹلی، ناروے، سویڈن ،سوئٹزرلینڈ،کے نمائندگان موجود تھے ۔۔۔ میٹنگ کی ابتداء تلاوت کلام پاک سے ہوئی جو ،جس کی سعادت ای ایم سی کے سکریٹری جنرل جناب حافظ محمد فرقان نے حاصل کی ،اس کے بعد درس قرآن مولانا محمد اقبال ( Ukim) نے بڑے ہی بلیغ اور موثر انداز میں دیا جس میں اُمت مسلمہ پر پڑی اُفتادسے کس طرح نبرد آزما ہواجائے آپ کے بعد جناب محمد افضل (Ukim ( نے یورپی مسلم یونین کے قیام کے مقاصد کا جائزہ لیا۔۔پھر سیکریٹری جنرل فرقان بھائی نے سالانہ رپورٹ پیش کی پورے سال میں کئے گئے کام اور اہداف کا جائزہ پیش کیا پھر تمام یورپین حلقوں نے اپنے کام رپورٹ پیش کی۔۔اس دوران نماز ظہر اور ظہرانے کا وقت آگیا ۔۔ نماز ظہر اور عصر جمع کرکے مقامی مسجد الرسالۃ میں ادا کی گئی جہاں پاکستان ،ڈینش اور صومالی بھائیوں سے ملاقات ہوئی۔۔واپس ہال کی طرف آئے تو تنظیم اسلامی کے میزبانوں نے انواع و اقسام کے کھانے چُن رکھے تھے جو اُن کے پیار کی علامت تھے ۔۔ کھانے سے فارغ ہو کر بقیہ تنظیموں نے اپنی رپورٹ پیش ۔۔اس کا جائزہ EMC کے صدر جانب میاں محمد عبدالحق نے تنقیدی انداز میں لیا اپنے خطاب میں فرمایا کہ ہمیں اپنی رپورٹ میں اپنے کام اور اہداف کو مد نظر رکھنا چاہئے ۔یہ کوئی بات نہیں کہ ہماری ایک مسجد ہے جہاں اتنے نمازی آتے ہیں اور ایک لائبریری ہے جس میں اتنی کتابیں ہیں۔مسجد میں نمازی اور لائبریری میں کتابیں ہی ہونگیں ۔بلکہ ہمیں اپنے کام کی کمی بیشیوں کو پیش کیا جانا چاہئیے۔۔ پھر جناب عبد الرشید صدیقی جو کہ (ukim ) کے بزرگ عالم ہیں نے یورپ میں دینی کام کو بڑھانے کیلئے بڑے ہی مفید مشورے عنائت فرمائے ۔۔پھر جناب ابراہیم جمالی صاحب (ukim) نے بہت ہی تکنیکی انداز سے تمام حلقوں کے کام پر تنقیدی نظر دوڑائی اور اس کام میں مزید کام کی ضرورت پر زور دیا ۔۔جناب وقاص وحید صاحب نے اپنے تجربات کی روشنی میں نئے اہداف کی تکمیل کیلئے کام کے انداز کو بدلنے پر زور دیا۔۔۔وقت کی سواری آگے بڑھتی جارہی تھی نماز مغرب کا وقت آن پہنچا ۔۔کچھ لوگ مسجد کی طرف چلے گئے اور میزبانوں اور کچھ مہانوں نے اسی ہال میں ہی نماز ادا کی ہم مسافروں نے ساتھ عشاء کو بھی جمع کر لیا ۔۔ واپس آئے تو گرما گرم کھانے کی سوندھی سوندھی خوشبو نے ہلچل مچا دی۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک بھائی حقِ میزبانی ادا کر رہا تھا ۔۔کھانے کے بعد واپس ہوٹل آ گئے ۔۔ہوٹل میں EMC کی شوریٰ کا اجلاس ہوا میاں عبد الحق صاحب نے فرمایا کہ فرقان بھائی اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں اسلئے ان کی جگہ پر اٹلی اسلامک سوسائٹی کے جناب سجاد بھٹی صاحب یہ قلمدان سنبھالیں گے ۔۔اللہ انہیں کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔ دوسرے دن تنظیم اسلامی نے اپنے ارکان کے ساتھ ایک پروگرام انجام دیا ۔۔جو ان کے کام کی عکاسی کر رہا تھا۔۔۔ ایک ایک کرکے تمام لوگ حسین یادیں لئے اپنے ممالک کی طرف چل دئے ۔۔۔اللہ تعالیٰ اس کوشش کوشرف قبولیت عطا فرمائے ۔۔آمین۔۔

Souvenirs to participant of EMC

EMC Day 2

EMC Day 1

Agenda urdu

1page 2page

Agenda EMC

 

European Muslim Council (EMC)

4rth Annual General Meeting, Copenhagen, Denmark

31st Aug– 1st Sep 2013

 

 

Arrival

Friday  30th Aug 2013

Maghreb Prayer

Arrival, Welcome, Registration & Dinner

Esha Prayers

DAY1: Saturday, 31st August 2013

04.15 – 04.45              Fajr Prayers

04.45 – 05.30.             Dars- e- Quran by Molana Muhammad Iqbal

05.30 – 08.30              Rest

08.30 – 09.30              Breakfast

 

Session 1:  Setting the Scene (Chair by Mian Abdul Haq)

10.00 – 10.15              Welcome Speech by Muhammad Irfan (President Tanzeem e Islami)

 

10.15 – 10.30              Opening Speech by Mian Abdul Haq  (President EMC)

 

10.30 – 12.30              Participants Introduction & their Organisation work in the context of EMC

 

12.30 – 13.00              Q&A and Experience sharing by all Participants

 

13.00 – 14.30              Prayer and Lunch

 

 

Session 2:  Organization Reports and Review on some targets

14.30 – 15.00              Report of EMC (by General Secretary EMC Muhammad Furqan)

 

15.00 – 15.15                          Discussion of EMC registration & opening of EMC Bank Account

 

15.15 – 15.45                Discussions on literature translation proposal of Islamic Foundation

 

 

Session 3: Role of EMC & Planning for Next Session (Chair Br Muhammad Afzal)

 

15.45 – 17.15              Roles & Responsibilities of EMC in current scenario & next year Planning

 

17.15 – 18.00              Refreshments & Asar Prayer

 

18.00 – 19.15              Roles & Responsibilities of EMC in current scenario & Planning

 

19.15 –20.45                Reminder by Br. Abdul Rashid Siddiqui

 

19.45 –20.15                Q & Answer

 

Formal Day Close with Prayer

20.15 – 22.15              Maghreb Prayer, Dinner & Esha Prayer

 

22.30 – 23.30               Entertainment, Poetry, Networking etc.

 

23.30 – 04.15               Rest

 

DAY 2: Sunday, 1st September 2013

04.15 – 04.45              Fajr Prayer

04.45 – 06.15              Dars- e- Hadith

06.15 – 08.00              Rest

08.00 – 09.00              Breakfast

Session 4: Closing Session (Chair by President EMC)

09.00- 10-45                Continue Planning for the next year including training & development

matters, exchange of resource within affiliated organizations, youth

camp Cordoba, and other discussions

 

10.45 – 11.15               Any other matter

 

11.15 – 11.45              Closing Speech (President EMC Mian Abdul Haq)

 

11.30 – 12.00              Dua and Close of the AGM

 

Agenda EMC

Agenda EMC2013

EMC copenhagen

em banner