یوم یکجہتی کشمیر پس منظر اور اہمیت

عدیل احمد آسی

 تحریک کشمیر ڈنمارک

یوم یکجہتی کشمیر کیا ہے اس کی اہمیت کیا ہے ، ہم یہ دن کیوں منا رہے ہیں اس کو جاننے اور سمجھنے سے کے لیے تحریک آزادی کشمیر کے پس منظر کو سمجھنا ہو گا۔ کشمیروں پر ظلم کی یہ داستان معاہدہ امر تسر سے ہی شروع ہو جاتی ہے اس بدنام زمانہ ”معاہدہ امرتسر“ کے تحت16 مارچ 1846ء کو انگریزوں نے کشمیر کو 75لاکھ روپے نانک شاہی کے عوض گلاب سنگھ کو بیچ دیا۔ اور پھر ڈوگرہ راج میں مسلمانان کشمیر کے ساتھ جو ناروا سلوک روا رکھا گیا اس کی ایک جھلک قدرت اللہ شہاب مرحوم نےاپنی شہرآفاق کتاب شہاب نامہ میں درج کی ہے۔ جولائی 1931ء کو سری نگر جیل کے احاطے میں کشمیریوں پر وحشیانہ فائرنگ میں 22 مسلمان  کو شہید اور متعدد  کوشدید زخمی کردیا گیا۔ اسی واقع نے تحریک آزادی کشمیر کو جنم دیا اور لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ نے شاعر مشرق  حضرت علامہ اقبال کی سربراہی میں ایک ”کشمیر کمیٹی“ قائم کی ۔ نومبر 1931ء میں ”تحریک الاحرار“ نے سول نافرمانی کے ذریعے جموں کشمیر کو آزاد کرانے کا مطالبہ کیا۔  1934ء میں پہلی مرتبہ ہندوستان میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ڈوگرہ راج کے مظالم کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی گئی۔ 1946ء میں قائد اعظم نے مسلم کانفرنس کی دعوت پر سرینگر کا دورہ کیا جہاں قائد  نےکشمیر کو پاکستان کی”شہ رگ“ قرار دیا۔  جولائی1947ء میں سری نگر میں باقاعدہ طورپر ”قرار داد الحاق پاکستان “منظور کی۔ لیکن ہندوستان نے کشمیریوں کے اس فیصلے کو نظر انداز کر دیا۔ ہندوستان نے  کشمیر سےمسلم تشخص کو ختم کرنے کیلئے تقسیم ہند کے وقت ساڑھے تین لاکھ کشمیریوں کو جموں میں شہید کیا ۔ 23 اگست 1947  کو کشمیروں نے مسلح جدوجہد کا باقاعدہ آغاز کیا اور اس جہاد کے نتیجے میں موجودہ آزاد کشمیر آزاد ہوا۔ اس صورت حال سے گھبرا کہ پنڈت جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ پہنچ گئے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیروں کے لیے حق خود ارادیت کی متعدد قراردیں منظور کیں جن کے مطابق ریاست میں رائے شماری کے ذریعے ریاست کے مستقبل کا فیصلہ مقامی عوام اپنی خواہشات کے مطابق کریں گے۔ لیکن ہندوستان آج تک ان قرارداوں پر عملدرآمد کی بجائے نہتے کشمیروں پر 8 لاکھ ا فواج کے ذریعے  غاصابانہ قبضہ کر کہ ظلم وستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنوری1989ء سے 31 دسمبر2010ء تک غاصب ہندوستانی افواج نے 93,544 کشمیری مردوزن کو شہید کردیا جن میں 6,892 کو زیر حراست قتل کیا گیا۔ 22,749 خواتین بیوہ اور 107,400 بچے یتیم ہوئے۔ گزشتہ دوعشروں میں ہندوستانی افواج کے ہاتھون کشمیری خواتین کی عصمت دری کے 9,987 واقعات ہوئے جب کہ 105,901 مکان اور گھروں کو ہندوستانی قابض افواج نے جلا کر خاکستر کیا۔ 1989ء میں جب کشمیروں نے بھارت کی مسلسل عیاریوں اور دھوکے بازیوں کے بعد تحریک آزادی کشمیر کو ایک بار پھرنئے جوش و جذبے اور سرفروشانہ انداز شروع کر دیا ۔ آزادی کے ان متوالوں نے 1947 ءمیں آزادی کی تحریک کے لیے بنائے گئے بیس کیمپ کا رخ کیا۔روزانہ سینکڑوں کی تعدادمیں نوجوان نام نہاد لائن آف کنٹرول کو روندتے ہوئے آزاد کشمیر میں پہنچنا شروع ہو ۔یہ وہ حالات تھے کہ جب جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے اس وقت کے امیر کرنل (ر )محمد رشید عباسی (مرحوم ) سیکرٹری جنرل محمد اعجاز افضل اور ان کے جواں عزم و ہمت ساتھیوں نے مقبوضہ کشمیر سے آنے والے ہزاروں نوجوانوں کی میزبانی کا فیصلہ کیا اور اس ساری صورتحال کے پس منظر اور پیش منظر سے جماعت اسلامی پاکستان کی قیادت کو نہ صرف مکمل طور پر آگاہ کیا بلکہ میزبانی کے سلسلے میں ان سے امداد کی درخواست بھی کی گئی ۔اس وقت کے امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے راہنماؤں کونہ صرف اپنے مکمل تعاون اور امداد کی یقین دہانی کروائی بلکہ ایک پریس کانفرنس کر کے اس ساری صورتحال سے قوم کو آگاہ کیا ۔انہوں نے حکمرانوں اور عوام سے کشمیریوں کی اس جدوجہد کی تائید و حمایت اور پشتیبانی کی اپیل بھی کی۔

یہ قاضی حسین احمد (رحمتہ اللہ علیہ )ہی تھے کہ جنہوں نے 5 فروری کو مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔ اورپھرا ن کی سربراہی اور قیادت میں ہی سب سے پہلے 5 فروری 1990 ءکویوم یکجہتی کشمیر منایا گیا تھا۔ قاضی حسین احمد کے مطابق تحریک آزادی کشمیراپنی نوعیت اور اہمیت کے اعتبار سے کشمیر کی آزادی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بقا و سالمیت اور تکمیل کی جنگ بھی ہے۔وہ مسئلہ کشمیر کو تقسیم برصغیرکے ایجنڈے کا حصہ قرار دیتے تھے

 –

اس وقت چونکہ پنجاب میں اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت تھی اور میاں نواز شریف وزیرِ اعلیٰ تھے لہٰذا انہوں نے قاضی صاحب کی اپیل سے اتفاق کرتے ہوئے 5فروری1990 کو پنجاب بھر میں سرکاری طور پر یومِ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کر دیا ۔ مرکز میں اس وقت محترمہ بینظیر بھٹو مرحومہ کی حکومت تھی لہٰذا انہوں نے بھی اس دن کو سرکاری طور پر یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان کیا ۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ان اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ پورے پاکستان میں تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے بیداری اور یکجہتی کی ایک ایسی فضا پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں ملک کا ہرفرد تحریک آزادی کشمیر کے جذبے سے پوری طرح سرشار ہو گیا اور اس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کے عوام تک یہ پیغام بھی پہنچا کہ وہ بھارت سے آزادی اور حق خودارادیت کی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری مسلمانوں نے ہندو بنیاءکی غلامی سے آزادی کے لیے تاریخ کی بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔ہمیں یقین ہے کہ شہدا کا خون رنگ لائے گا اور سرزمین کشمیر پر ایک دن ضرور آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔ بھارت بے گناہ کشمیری مردوں ٬عورتوں اور معصوم بچوں کا قاتل ہے۔دوسری طرف یہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ نام نہاد عالمی انسانی حقوق کے ادارے اور تنظیمیں کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے شدید ترین مظالم اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیوںپر بھی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔کشمیری آزادی کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں٬ مگر بھارت کی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کو دیکھئے کہ وہ پھر بھی کشمیر کے اٹوٹ انگ ہونے کی رٹ تواتر کے ساتھ لگاتا چلا جا رہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوجوں کے ہاتھوں ظلم و استبداد کا شکار کشمیری مسلمان کی مدد کرنا پاکستانی مسلمانوں پر واجب ہے۔ یہ بات جاننا ضروری ہے کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں آزادی اور حق خود ارادیت کی جو تحریک جاری ہے وہ ریاست جموں و کشمیر کی آزادی اور حق خودارادیت کی تحریک ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تکمیل اور بقا کی تحریک بھی ہے ۔ کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی بقا کی اس تحریک میں ایک لاکھ سے زیادہ شہداء کا مقدس لہو شامل ہےاس کے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں کشمیری مسلمان مرد ، عورتیں ، بچے اور بوڑھے زخمی اور اپاہج ہو چکے ہیں چنانچہ آج مقبوضہ کشمیر میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے جس کا کوئی نہ کوئی فرد شہید یا زخمی نہ ہوا ہو یا جس کی کسی ماں ، بہن یا بیٹی کی عصمت نہ لٹی ہو ۔ اسی طرح آج مقبوضہ کشمیر میں بستیوں کی بستیاں ویرانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کا کوئی شہر یا گاؤں ایسا نہیں ہوگا جہاں شہداء کے مزار نہ ہوں یوں وہ کشمیر جو جنت ارضی کہلاتا تھا، بھارت کی سرکاری دہشت گردی کی وجہ سے موت کی وادی میں تبدیل ہو چکا ہے اور کشمیری عوام نے یہ ساری قربانیاں اپنے حق ِ خودارادیت اور پاکستان کی تکمیل اور بقاء کیلئے دی ہیں تو پھر ہم پہ واجب ہے کہ ہم دنیا میں جہاں کہیں بھی ہیں ۵ فروری کو  کشمیروں کے ساتھ یکجہتی کے لیے نکلیں اور مظلموم کشمیروں کی آواز بنیں اور مقبوضہ کشمیر کی مظلوم عوام کوبتا دیں کہ وہ بھارت سے آزادی اور حق خودارادیت کی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں ۔ اور دنیا کو باور کروائیں کہ ہمیں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے علاوہ کشمیرکا کوئی حل قبول نہیں ۔  اور حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے اصولی موقف پر کوئی اندرونی یا بیرونی دباؤ قبول نہ کریں ۔  مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جرات مندانہ موقف اختیار کیا جائے  اور اس موقف کی تائید میں بھر پور سفارتی مہم چلائی جائے۔

Comments are closed.